او آئی سی کے رابطہ گروپ کا کشمیریوں کی شناخت اور جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے پر اظہار تشویش

او آئی سی کے رابطہ گروپ نے کشمیر پر مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا ہے۔

ضرور پڑھیں: سعودی حکومت نے ریاست میں آنے کے خواہشمند پاکستانیوں کو ہدایات جاری کردیں
سرکاری ٹی وی کے مطابق او اائی سی کے رابطہ گروپ کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیہ میں کشمیریوں کی شناخت اور جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے پر اظہار تشویش کیا ہے، مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی اقدام عالمی قوانین اوربھارتی وعدوں کے برعکس ہیں،بھارتی اقدام مسلم اکثریتی علاقے کو ہندو اکثریت میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق یو این ہائی کمشنر رپورٹس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ او آئی سی رابطہ گروپ نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت پرامن مظاہرین کیخلاف طاقت کا استعمال بند کرے اورکرفیو اٹھایا جائے تمام قیدیوں کو فی الفور رہا کیا جائے۔ بھارت انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ رابطہ گروپ اجلاس میں صدر آزاد کشمیر نے کشمیریوں کی نمائندگی کی ۔ اجلاس میں مشترکہ ا علامیہ کی تمام ممبران نے توثیق اور دستخط کیے ،جن لوگوں کو او آئی سی کے حوالے سے ابہام تھا آج ختم ہوگیا ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کی آکواز روز بروز زور پکڑتی جارہی ہے،وزیراعظم نے جس طرح صدر ٹرمپ سے کشمیر پر دوٹوک بات کی وہ قابل فخر ہے، بھارت نے علاقائی تعاون تنظیم سارک کو بے معنی کرکے رکھ دیا ہے۔

معروف صوفی سنگر صنم ماروی شوکت خانم کیلئے کام کرنے کو عبادت کیوں سمجھتی ہیں؟ آسٹریلیا میں منعقدہ فنڈ ریزنگ تقریب میں شرکت کے دوران ڈیلی پاکستان سے خصوصی انٹرویو دیکھئے

معروف صوفی سنگر صنم ماروی شوکت خانم کیلئے کام کرنے کو عبادت کیوں سمجھتی ہیں؟ آسٹریلیا میں منعقدہ فنڈ ریزنگ تقریب میں شرکت کے دوران ڈیلی پاکستان سے خصوصی انٹرویو دیکھئے

ارفع کریم سے بھی چھوٹی عمر کا پاکستانی آئی ٹی ایکسپرٹ بچہ

ارفع کریم سے بھی چھوٹی عمر کا پاکستانی آئی ٹی ایکسپرٹ بچہ حزیر اعوان، جس نے مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ آئی ٹی پروفیشنل ، مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ آئی ٹی پروفیشنل،مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ ٹیکنالوجی سپیشلسٹ اور مائیکروسافٹ سلوشن ایسوسی ایٹ کے چار سرٹیفکیٹ اپنے نام کیے ، ان کی عمر سرٹیفکیٹ حاصل کرتے وقت سات سال اور تیرہ دن تھی جبکہ ارفع کریم نے مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ آئی ٹی پروفیشنل کا سرٹیفکیٹ 9 سال کی عمر میں حاصل کیا تھا۔

ضرور پڑھیں: خطے کو سیکیورٹی سے متعلق چیلنجز کا سامنا ہے، شاہ محمود قریشی
حزیر اعوان نے روبوٹک ہاتھ بنا لیا ، ہاتھ کے اشاروں سے چلنے والی ڈیوائس تیار کرلی، اس ڈیوائس کو مزید کہاں کہاں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ آپ بھی دیکھئے…

Heavy storm, rain kills at least six; rip off BRT station ceiling in KP

At least six people, including a child, have been killed and other 54 injured after heavy storm and rain hit parts of Khyber Pakhtunkhwa (KP) province.

According to the Provincial Disaster Management Authority, three persons were killed in Peshawar, two in Swabi and one in Mohmand district.

The gusty winds also ripped off the ceiling of a Bus Rapid Transit (BRT) project station No 26 in Tajabad.

The storm also damaged houses and uprooted trees in various areas including Peshawar, Swabi, DI Khan, Malakand.

Electricity supply to different part of the province was also disrupted due to the heavy rain. The spokesperson of PESCO said 191 feeders were tripped due to the heavy rain in the city.

Separately, parts of the country including, Lahore, Sialkot, Pindi, Islamabad, Murree, Chakwal, Jhelum, and Attock, as well as Azad Kashmir also experienced heavy rains, with power outages in various cities.

Bilawal to inaugurate first Thar coal power project in Islamkot today

Chairperson Bilawal Bhutto Zardari will formally inaugurate the first coal based power project in Islamkot today (Wednesday).

The PPP chairperson will be accompanied by Sindh Chief Minister Murad Ali Shah, his cabinet colleagues, senior government officials and diplomats of various countries, including China.

The inauguration ceremony will be performed in Islamkot where the coal mine of Thar block-II and the first power plant is located.

The federal government is likely to be represented by Federal Power Minister Umer Ayub Khan.

The power plant has a capacity to generate 660 Megawatts and consists of two power generation units of 330 Megawatts each.

This project was completed under CPEC flagship public-private partnership of Government of Sindh in ten years’ time.

For this project, the Sindh government has given the sovereign guarantee of 700 million dollars.

According to a report by Bloomberg, the region can produce enough coal to generate 15 GW in 10 years. This cheap alternate to imported fuel can help the country overcome a chronic energy shortage that has been wiping off 2 percentage points from economic growth every year.